پاکستانی قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن کی وجہ سے ہزاروں خاندان پشاور کے نواح میں واقع جلوزئی کیمپ میں دگرگوں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
جلوزئی
بچوں کے لیے پولیو کے قطرے
جلوزئی کیمپ میں ایک بچی کو پولیو کے قطرے پلائے جا رہے ہیں۔ پاکستان پولیو کے خاتمے کے حوالے سے طے شدہ ہدف سے اب بھی بہت دور ہے۔
جلوزئی
مہاجرین کے لیے خوراک
اندرون ملک مہاجرت پر مجبور افراد کے لیے اس کیمپ میں خوراک کی فراہمی ممکن بنانے کے لیے مقامی اور بین الاقوامی رضا کار تنظیمیں سرگرم ہیں۔
جلوزئی
کیمپ کے لیے رجسٹریشن
کیمپ میں مہاجرین کا اندراج اس مہاجر کیمپ میں قیام کے لیے سرکاری طور پر متعارف کرائے گئے رجسٹریشن عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس کیمپ میں مجموعی طور پر 20 ہزار سے زائد مہاجرین مقیم ہیں۔
جلوزئی
مساجد کی عدم موجودگی
اس کیمپ میں دیگر مشکلات کے ساتھ ساتھ ایک مشکل یہ بھی ہے کہ یہاں اتنے زیادہ افراد کے لیے مناسب مسجد کی عدم موجودگی کے باعث کیمپ کے باسی کھلے آسمان تلے ہی عبادات پر مجبور ہیں۔
جلوزئی
بچوں کے لیے تفریحی سرگرمیوں کی عدم دستیابی
یہاں مقیم بچوں کے لیے کھیل کے کسی میدان یا دیگر تفریحی سرگرمیوں کے لیے کوئی خاطر خواہ انتظام نہیں ہے۔
جلوزئی
نوجوانوں کے لیے تعلیم کے مواقع
قبائلی علاقوں سے بے گھر ہونے والے بچوں اور نوجوانوں کے لیے اس کیمپت میں تعلیم کے مواقع بھی بہت زیادہ نہیں۔
جلوزئی
عالمی ادارہ بھی مہاجرین کی مدد کے لیے سرگرداں
اقوام متحدہ کا ادارہ برائے مہاجرین اس کیمپ میں مقیم افراد کی امداد کے لیے سرگرم عمل ہے۔
جلوزئی
اقوام متحدہ کی جانب سے آگہی مہم
یو این کے ادارہ برائے مہاجرین کی جانب سے شعور و آگہی کی مہم بھی جاری ہے، جس میں ان افراد کے لیے کتابچے چھاپے گئے ہیں۔
جلوزئی
کیمپ میں مقیم بچے
اس کیمپ میں بچوں کی ایک بڑی تعداد بھی موجود ہے، جنہیں خوراک اور صحت کی سہولیات سمیت متعدد مسائل کا سامنا ہے۔
جلوزئی
کیمپ میں مقیم بچیاں
اس کیمپ میں مقیم بچیوں کے لیے تعلیم اور تربیت کی سرگرمیاں اور سہولیات کا بھی شدید فقدان ہے۔
جلوزئی
سڑک دکانیں
اس کیمپ میں مقیم بعض افراد اپنی مدد آپ کے تحت انتہائی محدود سرمایے سے کھلونوں اور دیگر اشیا کی فروخت کے لیے کھلی دکانیں بھی چلا رہے ہیں۔